بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست مسترد

سپریم کورٹ نے او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست منظور نہ کرتے ہوئے مسترد کر دی۔

اس کیس میں عدالت نے وضاحت کی کہ بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار جاری کرنے کے بعد امیدواروں کو خط جاری کرنا ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل میں گریڈ 4 اور 5 کے لیے 145 افراد کو بھرتی کے خطوط جاری کیے گئے تھے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق، سابق وزیر انور سیف اللہ کی موجودگی میں تین افراد نے جوائننگ کی جبکہ 24 ملازمین نے بعد میں جوائننگ کی۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت کے چیئرمین کو نامزد نہ کرنا بدنیتی کا مظہر تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ سابق وزیر کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل پر دباؤ ڈالا گیا جبکہ چیئرمین کو مزاحمت کرنی چاہیے تھی۔ جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزراء سے عوام نوکریاں مانگتے ہیں لیکن قانون کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ بھرتیوں میں طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا اور نوازا گیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا سزا ہونے کے بعد سلسلہ رک گیا یا نہیں، اور کہا کہ اگر قانون پر عمل نہ کیا گیا تو لوگ یہ سوچیں گے کہ کچھ نہیں ہوتا۔

ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے سابق وزیر انور سیف اللہ کو 1 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ نے بعد میں بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، جہاں 3رکنی بینچ نے جرمانے کو ختم کرتے ہوئے قید کی سزا بحال کر دی تھی۔ بعد ازاں سابق وزیر کی جانب سے نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ نے کی، جس میں سماعت مکمل کی گئی۔