بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسپیس ایکس اور xAI ایک ہو گئے، ایلون مسک خلا میں اے آئی کا نیا انقلاب لا رہے ہیں؟

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی xAI کو حاصل کر لیا ہے، تاکہ مستقبل میں خلائی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے اے آئی کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

ایلون مسک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اے آئی کے لیے ’زبردست مقدار میں توانائی اور کولنگ‘ درکار ہے جو زمین پر معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات ڈالے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے خلائی ڈیٹا سینٹرز ہی طویل مدتی حل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں خلائی اے آئی ہی واحد منطقی راستہ ہے۔ ہمارے سورج کی توانائی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ بھی زمین کی موجودہ توانائی کی طلب سے کئی گنا زیادہ ہے اس لیے یہ کام خلا میں منتقل کرنا ناگزیر ہے۔

ایلون مسک نے پیش گوئی کی کہ آنے والے دو سے تین سالوں میں اے آئی کے لیے سب سے کم لاگت والا کمپیوٹنگ حل خلا میں موجود ہوگا۔ اس انضمام کے بعد مسک کے خلائی، اے آئی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کئی منصوبے ایک ہی ادارے کے تحت کام کریں گے۔

مسک کے مطابق، مستقبل میں اسپیس ایکس کا ہدف ایک ملین سیٹلائٹس لانچ کرنا ہے اور اسٹار شپ راکٹ پروگرام ایک دن میں ایک فلائٹ اور 200 ٹن وزنی پے لوڈ کے لانچ کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اسٹار لنک، جو اسپیس ایکس کی ذیلی کمپنی ہے، اپنی اگلی نسل کے V3 سیٹلائٹس کے لانچ کے بعد موجودہ V2 سیٹلائٹس کی نسبت 20 گنا زیادہ صلاحیت فراہم کرے گی۔

اس اقدام سے نہ صرف AI کمپیوٹنگ کے لیے درکار توانائی کا بحران کم ہوگا بلکہ خلا میں توانائی کی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی۔