اسلام آباد (طارق سمیر ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ 6 فروری 2026 کو جمعہ کی نماز کے دوران کیا جانے والا خودکش حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے. دہشتگردی کے اس واقعے میں 31 نمازی شہید اور 169 سے زائد زخمی ہوئے۔ واقعے میں ملوث دہشت گرد گروہ ناقابل معافی ہیں. ملک میں امن و امان اسی وقت قایم ہوگا جب دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کر دیا جائی گا. ملکی ترقی و خوشحالی کیلیے ملک کے طول و عرض میں پھیلے دہشت گردوں کو چن چن کر ہلاک کرنا ہوگا. دہشتگرد گروہ پاکستان کی سالمیت کے در پے ہیں. بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کا اسلام آباد حملے سے تعلق ہو سکتا ہے.چیرمین قایمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کامیابی کے ساتھ بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشنز میں سیکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ 31 جنوری کو بلوچستان بھر میں دہشتگردوں نے ہم آہنگ حملے کیے جن میں سیکورٹی اہلکار اور عام شہری بھی نشانہ بنے. اسلام آباد حملہ ایک سے زیادہ دہشتگرد تنظیموں کی کاروائی بھی ہو سکتی ہے. اسلام آباد حملہ پاکستان کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور شہری دفاع پر ایک براہِ راست حملہ تھا. امام بارگاہ کو نشانہ بنانے کا بڑا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا بھی ہو سکتا ہے. عوام اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردوں کو ختم کرکے امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں.
دہشتگرد پاکستان کی سالمیت کے در پے ہیں، سینیٹر عبدالقادر








