بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ جاری

کابل(نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جبکہ سرمایہ کار شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی تازہ رپورٹ نے طالبان حکومت کے معاشی استحکام اور سرمایہ کاری سے متعلق دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کی انتہا پسند اور غیر شفاف پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یو این ڈی پی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سخت گیر حکومتی اقدامات اور غیر یقینی سیاسی ماحول کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ تقریباً 5 ارب ڈالر غیر قانونی ہوالہ ہنڈی کے ذریعے ملک سے باہر منتقل ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی نظام میں شفافیت ختم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں بینکاری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف 6 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، جس کے باعث معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں اور سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں اب تک 16 لاکھ سے زائد افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، جس سے برین ڈرین خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی بڑے پیمانے پر ہجرت نے معیشت کو مزید کمزور کر دیا ہے اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر تعلیم اور ملازمت پر عائد پابندیوں نے بھی معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خواتین کی افرادی قوت سے محرومی کے باعث نہ صرف گھریلو آمدن میں کمی آئی ہے بلکہ مجموعی قومی پیداوار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کی حمایت اور سرپرستی کے ساتھ کوئی معیشت دیرپا بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتی۔ ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کو فوری طور پر شدت پسند پالیسیوں سے دستبردار ہو کر معاشی اصلاحات، شفاف مالیاتی نظام اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، بصورت دیگر افغانستان کا معاشی مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔