کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کی مصروف شاہراہ پر نصب ڈیجیٹل بل بورڈز پر نازیبا ویڈیو چلانے کے واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس کا اعترافی ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔
ملزم نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ شاہراہ فیصل پر واقع ایک نجی اشتہاری کمپنی میں 35 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازم ہے اور لیاقت آباد کا رہائشی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ملزم کی عمر 17 سال ہے، تاہم اس نے واضح کیا کہ اس کی عمر 20 سال ہے، اگرچہ اس کا شناختی کارڈ تاحال نہیں بنا۔ اس کے مطابق اسے والد کے شناختی کارڈ پر ملازمت دی گئی تھی۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ کمپنی کے اشتہارات اس کے موبائل فون میں موجود تھے اور اسی موبائل میں موجود نازیبا ویڈیو غلطی سے اشتہارات کے ساتھ نشر ہو گئی۔ رپورٹر کے سوال پر اس نے بتایا کہ مذکورہ فحش مواد اسے ایک واٹس ایپ گروپ سے موصول ہوا تھا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر اس نے معافی بھی مانگی، تاہم نوکری ختم ہونے کے خوف سے فوری طور پر سامنے نہیں آ سکا۔
یاد رہے کہ ڈیفنس میں نصب ڈیجیٹل اسکرینز پر چند لمحوں کے لیے نازیبا مناظر دکھائے جانے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش میں مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو اس کے موبائل فون سے حادثاتی طور پر نشر ہوئی۔
یہ واقعہ دو روز قبل اس وقت سامنے آیا جب ڈیفنس کی مرکزی شاہراہ پر نصب ایس ایم ڈی بل بورڈ پر اچانک نامناسب ویڈیو چلنے لگی۔ متعدد شہریوں نے مناظر موبائل فون میں ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیے، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پھیل گیا اور انتظامیہ حرکت میں آ گئی۔
نجی اشتہاری کمپنی کے آپریشن منیجر آصف خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس واقعے کے پیچھے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے شفاف تحقیقات کے لیے خود ایک ملازم کو پولیس کے حوالے کیا۔ پولیس نے اس معاملے پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 292 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کے تحت فحش مواد کی تیاری، تقسیم یا عوامی نمائش قابلِ سزا جرم ہے۔
بعد ازاں اشتہاری کمپنی کے قانونی مشیر شاکر رشید کی درخواست پر گزری تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق چار فروری کی رات 9 بج کر 37 منٹ پر آصف خان نے اطلاع دی کہ خیابانِ اتحاد پر عائشہ مسجد کے قریب نصب اسکرین پر وقفے وقفے سے نازیبا ویڈیو نشر ہو رہی ہے، جس سے عوامی جذبات مجروح ہوئے۔ اطلاع ملتے ہی وہ موقع پر پہنچے اور اسکرین بند کروا دی گئی۔
آصف خان کا کہنا تھا کہ بل بورڈ کا نظام کلاؤڈ بیسڈ ہے اور اس میں سیکیورٹی کے انتظامات موجود ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ ہیکنگ کے امکان پر انہوں نے حتمی رائے دینے سے گریز کیا، البتہ یہ ضرور کہا کہ واقعہ کمپنی اور عوام دونوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا۔
ماہرین کے مطابق ایس ایم ڈی (سرفیس ماؤنٹ ڈیوائس) اسکرینز جدید ایل ای ڈی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں سرخ، سبز اور نیلے رنگ کے ننھے ڈائیوڈز شامل ہوتے ہیں۔ یہ اسکرینز عموماً مصروف شاہراہوں، شاپنگ مالز اور اسٹیڈیمز میں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کا کنٹرول کلاؤڈ یا لوکل سرور کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ نظام انٹرنیٹ یا وائی فائی سے منسلک ہوں تو سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید حقائق سامنے آنے پر قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
ڈیفنس بل بورڈ پر نازیبا ویڈیو چلنے کا معاملہ: ملزم کا اعترافی بیان وائرل، اصل حقائق سامنے آ گئے








