بھارتی فلم ساز انوراگ کشیپ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حال ہی میں سامنے آنے والی دستاویزات میں اپنا نام شامل ہونے کے بعد وضاحت جاری کی ہے۔
انوراگ کشیپ نے اپنے بیان میں خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین سے ان کا کسی بھی قسم کا تعلق نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ وہ کبھی بیجنگ نہیں گئے اور نہ ہی انہیں کسی ای میل یا تقریب کے بارے میں علم تھا۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایپسٹین فائلز میں ان کا حوالہ ایک ای میل تھریڈ کے ذریعے آیا، جس میں مختلف عالمی ورکشاپس کے ممکنہ شرکاء کی فہرست شامل تھی۔ اس ای میل میں ایک بالی ووڈ ہدایت کار کا ذکر تھا، جسے بعض حلقوں نے انوراگ کشیپ سے جوڑنے کی کوشش کی۔
انوراگ کشیپ نے زور دیا کہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر انہیں مختلف تقریبات میں شرکت کی دعوتیں ملتی رہتی ہیں، لیکن وہ شاذ و نادر ہی ان پر ردعمل دیتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کے نام سے بننے والی سنسنی خیز خبریں ان کی فلموں سے بھی زیادہ مقبول ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں کسی کا نام شامل ہونا لازمی طور پر کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے، کیونکہ اس دستاویز میں ای میلز، سفری تفصیلات اور دعوت ناموں سمیت کئی معروف شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ، پرنس اینڈریو اور بل گیٹس بھی شامل ہیں۔
ایپسٹین فائلز میں نام سامنے آنے پر انوراگ کشیپ کا ردعمل: “کوئی تعلق نہیں”








