بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں نفرت کے مقابل انسانیت کا ساتھ دینے والے ایک مقامی ہندو شہری نے سوشل میڈیا پر لاکھوں دل جیت لیے ہیں۔ مسلمان دکاندار کو ہراساں کیے جانے کے خلاف انتہا پسند عناصر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے والے دیپک کمار چند ہی دنوں میں ایک علامت بن کر ابھر آئے ہیں۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان دکاندار کو اس کی دکان کا برسوں پرانا نام “بابا” تبدیل کرنے پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ انتہا پسندوں کا مؤقف تھا کہ لفظ “بابا” ہندو مذہبی روایت سے جڑا ہے اور کسی مسلمان کو یہ نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسی لمحے دیپک کمار نے مداخلت کی اور دلائل کے ساتھ دکاندار کا دفاع کیا۔
صورتحال اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گئی جب انتہا پسندوں نے دیپک سے ان کی شناخت پوچھی تو انہوں نے خود کو “محمد دیپک” بتایا۔ اس جرات مندانہ جواب نے نہ صرف ماحول بدل دیا بلکہ انتہا پسندوں کو پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور کر دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور محض ایک ہفتے میں دیپک کے فالوورز کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دیپک کمار پیشے کے لحاظ سے جم ٹرینر ہیں۔ یہ واقعہ 26 جنوری 2026 کو کوٹدوار میں پیش آیا، جہاں ایک کپڑوں کی دکان “بابا اسکول گارمنٹس” کے نام پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ دکان کے مالک وکیل احمد نے بتایا کہ ان کی دکان تقریباً 30 برس سے قائم ہے اور اس سے قبل کبھی کسی نے نام پر اعتراض نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “بابا” ایک ایسا لفظ ہے جو مختلف مذاہب میں استعمال ہوتا ہے اور کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔
دیپک کمار کے مطابق جب دکاندار سے بار بار نام اور شناخت کے سوالات کیے جا رہے تھے تو انہوں نے جان بوجھ کر “محمد دیپک” کا نام لیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ اس ملک میں ہر شہری کو بلا خوف و خطر جینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے، کیونکہ آخرکار انسان کو اس کے اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔”
دیپک کے بقول 26 جنوری کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔ انہیں روزانہ سینکڑوں فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں اکثریت حمایت پر مبنی ہے، تاہم اس اچانک شہرت نے ان کے روزگار کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ نفرت کے مقابل خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں۔
مسلمان دکاندار کے حق میں کھڑا ہونے والا ہندو نوجوان سوشل میڈیا اسٹار بن گیا








