بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بیرونِ ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک) بیرونِ ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں بھارتی شہریوں کی گرفتاریوں، تحقیقات اور ملک بدری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق امریکی امیگریشن ڈیٹا بیس کے اعلیٰ ترجیحی مجرمانہ کیسز کی فہرست میں 89 بھارتی نژاد افراد بھی شامل پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ان افراد کے نام اور ان پر عائد جرائم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ان بھارتی نژاد افراد پر جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، مالی فراڈ، اغوا، منی لانڈرنگ اور پرتشدد کارروائیوں جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد مختلف ریاستوں میں زیرِ تفتیش رہے یا سزا یافتہ قرار پائے، جنہیں بعد ازاں امیگریشن قوانین کے تحت ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب انڈین ایکسپریس نے بھی 2025 کے دوران امریکہ سے 3800 غیر قانونی بھارتی شہریوں کی ملک بدری کا انکشاف کیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھے یا مختلف نوعیت کے مقدمات میں مطلوب قرار دیے گئے، جس کے بعد انہیں واپس بھارت بھیجا گیا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت، سماجی عدم استحکام اور متنازع عدالتی نظام عالمی سطح پر بھارتی معاشرے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک بھارتی شہریوں سے جڑے جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت داخلی سطح پر انتہا پسند بیانیے کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے والے جرائم دنیا بھر میں بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اپنے داخلی نظامِ انصاف اور سماجی ڈھانچے میں اصلاحات نہ کیں تو مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی ادارے اور میزبان ممالک اب بھارتی شہریوں کی امیگریشن اور پس منظر کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔