لاہور(نیوز ڈیسک) ایپسٹین فائلز سے منسلک ممکنہ انکشافات کے دباؤ اور خوف کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی واضح پسپائی سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھارت کے حالیہ تجارتی معاہدے کو ایپسٹین فائلز کے دباؤ میں امریکہ کے سامنے ’’سر تسلیم خم‘‘ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے سستا تیل خریدنے پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نریندر مودی نے بیرونی دباؤ کے تحت روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے، جو بھارت کے سابقہ مؤقف کے بالکل برعکس ہے۔
کانگریس کے مطابق مودی حکومت کی یہ پسپائی وقتی نہیں بلکہ اس کے بھارتی معیشت اور سفارت کاری پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ پر قومی مؤقف سے انحراف ناکام خارجہ پالیسی اور واضح سفارتی شکست کی علامت ہے۔ کانگریس نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے تجارتی معاہدے سے متعلق اعلانات نے عالمی سطح پر بھارت کی کمزور حیثیت کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز سے جڑے ممکنہ انکشافات نے بھارتی حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، جس کے باعث امریکہ کے ساتھ معاملات میں لچک دکھانا پڑی۔ ماہرین کے مطابق بھارت کا نام نہاد خودمختاری کا بیانیہ امریکی پابندیوں اور دباؤ کے سامنے مکمل طور پر زمیں بوس ہو چکا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کے بجائے گمراہ کن بیانیے اور ہندوتوا نظریات کے زیرِ اثر رہی ہے، جس کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر یکے بعد دیگرے سفارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق روسی تیل کی خریداری میں کمی کا فیصلہ بھارت کی اس کمزور سفارتی پوزیشن کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی حکومت قوم کو یہ بتائے کہ روسی تیل سے متعلق پالیسی میں تبدیلی بیرونی دباؤ کے تحت کیوں کی گئی اور اس کے بدلے بھارت نے امریکہ کو کیا رعایتیں دی ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شفافیت کے بغیر کیے گئے ایسے فیصلے بھارت کی معیشت اور خودمختاری دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔









