بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چین میں جدید انسان نما اے آئی روبوٹ ’مویا‘ متعارف، انسانی احساس اور جذبات سے لیس

چین کے شہر شنگھائی میں قائم روبوٹکس اسٹارٹ اپ DroidUp نے دنیا کا پہلا بایومیمیٹک انسان نما اے آئی روبوٹ ’مویا‘ متعارف کرا دیا ہے، جسے انسانی خدوخال، حرکات اور جذباتی تاثر کے قریب تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق مویا کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انسانوں سے مشابہ دکھائی دے۔ اس میں حقیقت سے قریب جلد کی بناوٹ، انسانی انداز میں چلنے کی صلاحیت، چہرے کی شناخت اور جدید مصنوعی ذہانت کے فیچرز شامل ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اس روبوٹ کو صحت، تعلیم اور کسٹمر سروس جیسے شعبوں میں عوامی رابطے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
مویا کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت اس کی گرم جلد ہے، جو عام دھاتی اور ٹھنڈے روبوٹس سے بالکل مختلف ہے۔ کمپنی کے مطابق روبوٹ کے جسم کا درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جاتا ہے تاکہ لمس کے دوران انسانی احساس پیدا ہو سکے۔
کمپنی کے بانی لی چنگدو کا کہنا ہے کہ جو روبوٹ انسانوں کی مدد کے لیے بنائے جاتے ہیں، انہیں بے جان محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ مویا کی آنکھوں کی جگہ کیمرے نصب ہیں جو چہروں اور حرکات کو ٹریک کر سکتے ہیں، جبکہ یہ روبوٹ معمولی چہرے کے تاثرات (مائیکرو ایکسپریشنز) بھی ظاہر کر سکتی ہے اور اپنے اندرونی اے آئی سسٹم کے ذریعے قدرتی انداز میں ردِعمل دیتی ہے۔
کمپنی مویا کو ایک مکمل بایومیمیٹک ایمبوڈیڈ انٹیلیجنٹ روبوٹ قرار دیتی ہے۔ یہ روبوٹ اندرونی اسکلٹن سسٹم ’واکر 3‘ پر مبنی ہے، جو پہلے ماڈلز کی بنیاد پر تیار کیا گیا اور روبوٹکس مقابلوں میں اپنی کارکردگی دکھا چکا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مویا کی چلنے کی درستگی 92 فیصد ہے، تاہم دیگر تکنیکی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں لائی گئیں۔
مویا کی متوقع قیمت تقریباً 12 لاکھ چینی یوان (تقریباً 1 لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ) بتائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس روبوٹ کے حوالے سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد اسے حیران کن ٹیکنالوجی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے غیر معمولی اور قدرے خوفناک بھی کہہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ چین میں حال ہی میں دنیا کا پہلا ’ہیومینائیڈ روبوٹ مال‘ بھی کھولا گیا ہے، جو روبوٹ ٹیکنالوجی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔