پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں اتوار کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، عوامی مینڈیٹ کی واپسی، عمران خان تک رسائی اور آئین کی بالادستی کا مطالبہ کیا۔
دارالحکومت مظفرآباد، پٹہکہ، چناری، پونچھ، راولاکوٹ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق مظاہرے کے دوران کہیں بھی شٹر ڈاؤن یا امن و امان کی سنگین صورتحال نہیں بنی۔
پٹہکہ میں پی ٹی آئی کے سکریٹری جنرل میر عتیق الرحمن کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، جبکہ مظفرآباد میں احتجاج کی قیادت سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق نے کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے حق میں نعرے درج تھے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا اور عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ احتجاج کا مقصد پرامن انداز میں اپنے مطالبات حکام تک پہنچانا ہے۔
پٹہکہ سب ڈویژن میں مظاہرے میں حلقہ کوٹلہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے تمام سٹیک ہولڈرز، بلدیاتی نمائندگان، ضلع کونسل کے ارکان، یونین کونسل کے چیئرمین، وارڈ ممبران، سابق ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ ساتھ یوتھ ونگ، آئی ایس ایف، خواتین ونگ اور وکلا ونگ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
انتظامیہ نے تصدیق کی کہ مظاہرے پرامن رہے اور سکیورٹی کے تمام مناسب انتظامات کیے گئے تھے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن احتجاجی مظاہرے








