جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغانستان سے متعلق پالیسی، موجودہ حکومت اور عالمی حالات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’افغانستان سے ایک انار تک نہیں آ سکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں۔ اگر دہشت گرد آ رہے ہیں تو انہیں روکا کیوں نہیں جا رہا؟‘‘
راولپنڈی میں جے یو آئی یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو قوم نے مسترد کر دیا تھا اور موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کو منزل نہیں بلکہ ایک سفر کا حصہ سمجھتی ہے۔ ’’یہ حکومت عوام نے نہیں بنائی، بلکہ مختلف جماعتوں کو جوڑ کر کھڑی کی گئی ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت کا مذاق بناتی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کٹھ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جسے خود حلقوں کے نتائج کا علم نہیں تھا۔ جے یو آئی ان جھرلو انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی۔‘‘
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ ’’ستر ہزار سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں، شہر کے شہر مٹ گئے، اور اس ظلم کی پشت پناہی امریکا کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے حالات میں اگر کوئی ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی بات کرے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔‘‘ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر امن کے نام پر بننے والے کسی بورڈ میں نیتن یاہو جیسے کردار شامل ہوں تو اس میں بیٹھنا شرمناک ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل اور اعتدال کے ساتھ سیاست کرتی ہے اور قوم کو حقائق کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔
افغان پالیسی، انتخابات اور غزہ پر مولانا فضل الرحمان کی کڑی تنقید








