بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال، کاروبار بند، متعدد کارکن گرفتار

تحریک تحفظِ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، سڑکیں سنسان اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر رہے۔ پولیس نے مختلف علاقوں میں درجنوں سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، ہرنائی، سبی اور دیگر اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی۔ صوبے بھر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، بازار اور دکانیں بند تھیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ اس دوران تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔
کوئٹہ میں مرکزی بازار، بڑی مارکیٹیں، ہوٹلز اور دکانیں مکمل بند رہیں، تاہم بعض نواحی علاقوں میں جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ قومی شاہراہوں اور شہری سڑکوں پر ٹریفک شدید متاثر رہی اور کئی مقامات پر آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سڑکیں بند کرنے اور دکانیں زبردستی بند کرانے پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث شہر کے اہم چوراہوں، شاہراہوں اور بازاروں میں پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی فورسز تعینات رہیں۔
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں تاجر برادری اور عوام نے بھرپور تعاون کیا۔
ہڑتال کے باعث بلوچستان سے سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب جانے والی قومی شاہراہیں بھی متاثر رہیں۔ اپوزیشن اتحاد کے مطابق یہ احتجاج آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔
شہریوں اور تاجر برادری کی یکجہتی نے ہڑتال کو مؤثر بنایا، جسے ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔