بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟تجزیاتی رپورٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جن سے براہِ راست تصادم کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ، اور ایران کے جوہری پروگرام نے ایک بار پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام امریکی تشویش کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتا ہے، جسے خطے کے توازنِ طاقت کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرتا رہا ہے اور سفارتی دباؤ بڑھاتا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ لبنان، عراق، شام اور یمن میں ایسے گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں، جس سے کشیدگی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود امریکہ کے لیے ایران پر براہِ راست حملہ ایک نہایت مشکل اور خطرناک فیصلہ ہوگا۔ ایران ایک کمزور ملک نہیں بلکہ ایک منظم ریاست ہے جس کے پاس میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیت اور خطے میں مضبوط اتحادی موجود ہیں۔ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے جس کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈے بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی داخلی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کے بعد امریکی عوام مزید عسکری مہم جوئی کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ایک نئی جنگ نہ صرف انسانی اور فوجی نقصان کا باعث بنے گی بلکہ امریکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معاشی عدم استحکام کا خطرہ بھی موجود ہوگا، جو امریکہ سمیت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی لیے موجودہ حالات میں یہ زیادہ امکان ہے کہ امریکہ براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا۔ اس میں محدود نوعیت کے فضائی یا سائبر حملے، سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور اتحادی ممالک کے ذریعے بالواسطہ اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کے بجائے ایسی ہی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی رہی ہے، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر مکمل جنگ سے گریز کیا گیا ہے۔
ایران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ براہِ راست جنگ اس کے لیے بھی شدید نقصانات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے وہ عموماً پراکسی حکمتِ عملی اپناتا ہے۔ ایران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی حملے کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ ساتھ ہی وہ چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے عالمی سطح پر اپنے لیے سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کا ایران پر مکمل اور براہِ راست حملہ فی الوقت کم امکان رکھتا ہے، تاہم محدود نوعیت کی کارروائی یا بالواسطہ تصادم کے امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کشمکش میدانِ جنگ کے بجائے سفارت کاری، پابندیوں، علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ کے محاذ پر جاری رہے گی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے قریب ضرور دکھائی دیتے ہیں، مگر دونوں اس حد تک آگے بڑھنے سے فی الحال گریزاں ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔