بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان رجیم میں افغانستان ریاست نہیں، دہشتگردی اور شدت پسندی کا گڑھ بن گیا

کابل(نیوز ڈیسک) طالبان رجیم کے تحت افغانستان ایک باقاعدہ ریاست کے بجائے دہشتگردی اور شدت پسندی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے شدت پسند عناصر کی سرحد پار دراندازی اور ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

عالمی جریدے نے افغانستان سے پڑوسی ممالک میں ہونے والی دراندازی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی جریدے Eurasia Review کے مطابق افغانستان سے سرحد پار حملے اور غیر قانونی دراندازی معمول بن چکی ہے، جس سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی جانب سے بار بار دراندازی کے واقعات کے باعث کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کو تاجکستان کی سرحد مزید مضبوط کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ افغانستان اب صرف داخلی عدم استحکام کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بن چکا ہے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں جبکہ تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو بھی موجود ہیں۔ United Nations کے مطابق یہ عناصر نہ صرف افغانستان کے اندر عدم استحکام کا باعث ہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کے اثرات براہِ راست ہمسایہ ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کو سرحدی خطرات کے ساتھ ساتھ اسمگلنگ اور منشیات کے پھیلاؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی سلامتی کے خدشات میں مبتلا ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان نہ صرف دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے بلکہ وہاں سے منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دھندا بھی عروج پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ اور جابرانہ پالیسیاں نہ صرف خطے کے لیے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں شدت پسندی اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات مزید ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔