اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان نے اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع کی بدولت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ امریکی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق سی پیک کے تناظر میں پاکستان، ازبکستان اور قازقستان کے درمیان سہ فریقی تعاون نے خطے میں اقتصادی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔
جریدے کے مطابق ازبکستان اور قازقستان کے صدور نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور سی پیک پر سہ فریقی اشتراک کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی اور بہتر انفراسٹرکچر نے لینڈ لاک وسطی ایشیا کے لیے نئی تجارتی راہیں کھول دی ہیں، جس سے تجارتی حجم میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔
سی پیک کے ذریعے ازبکستان کو کراچی اور گوادر کے بندرگاہوں کے ذریعے جنوبی تجارتی راستہ میسر ہوا ہے جبکہ قازقستان پاکستان کے ذریعے اپنی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کا یہ تعاون نہ صرف خطے کی ترقی بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک اہم محرک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اسی پس منظر میں وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے اور سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے جیسے اقتصادی منصوبوں میں اپنی شرکت کو مزید بڑھا رہا ہے۔









