بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ورزش سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دیتی ہے

لاہور (ویب ڈیسک) نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش نہ کرنے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کو لاحق ہونے والی طبی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھتا ہے، تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

اس ڈیٹا کے ذریعے محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی کسی بھی پیچیدگی کو ٹریک کیا، جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ تک معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے تھے، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانے، یوگا، رقص یا گھر کے کام وغیرہ کو معتدل جسمانی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانے، رسی کودنے اور مشقت والے کام سخت جسمانی سرگرمیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری سے ذیابیطس کے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد جبکہ امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ذیابیطس کے مریض متعدد مسائل سے بچ سکتے ہیں، ذیابیطس کے مریضوں کو اکثر مختلف طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کیلئے جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے کی ضرورت ہے۔