بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جھارکھنڈ: یوٹیوبر نے مایوسی میں لاکھوں روپے کا اسٹوڈیو نذرِ آتش کر دیا، خودسوزی کی کوشش

سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے کی خواہش کبھی کبھی نوجوانوں کو ایسے فیصلوں تک لے جاتی ہے جن کے نتائج انتہائی افسوسناک ہوتے ہیں۔ بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گڑھوا میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی کربناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 27 سالہ نوجوان یوٹیوبر پرجاپتی نے شہرت نہ ملنے کی مایوسی میں اپنا ہی قائم کردہ جدید اسٹوڈیو آگ لگا کر تباہ کر دیا اور مبینہ طور پر خودسوزی کی بھی کوشش کی۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ نوجوان نے اپنے گھر کے اندر جدید سہولیات سے آراستہ اسٹوڈیو قائم کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنی آبائی زمین فروخت کی اور لاکھوں روپے کی لاگت سے کیمرے، لائٹس اور دیگر قیمتی آلات خریدے۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ یوٹیوب پر جلد کامیابی حاصل کرے اور اپنے خاندان کا سہارا بنے۔
تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود خاطر خواہ فالوورز اور آمدنی نہ ہونے پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔ پڑوسیوں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے وہ خاصا خاموش اور الگ تھلگ رہنے لگا تھا اور کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا۔
پڑوسی پرکاش کمار کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً دس بجے نوجوان نے خود کو اسٹوڈیو میں بند کر لیا اور کچھ ہی دیر بعد اندر سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔ اہلِ خانہ کی چیخ و پکار سن کر پڑوسی فوری طور پر جمع ہو گئے اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ ریسکیو کارروائی کے دوران پولیس نے گھر کی ایک دیوار توڑ کر اندر موجود افراد کو باہر نکالا۔
آگ لگنے سے اسٹوڈیو میں موجود تقریباً دس لاکھ روپے مالیت کا سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں کامیابی فوری نہیں ملتی اور ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناکامی یا تاخیر سے کامیابی کی صورت میں خاندان اور دوستوں سے رابطہ برقرار رکھنا اور پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔
اگر آپ یا آپ کے اردگرد کوئی فرد ذہنی دباؤ یا مایوسی کا شکار ہو تو مقامی طبی مراکز یا ہیلپ لائنز سے فوری رابطہ کرنا زندگی بچا سکتا ہے۔