نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید اور تباہ کن زلزلے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی جمع کر رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہو سکتی ہے۔ تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں میں معمولی مگر اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے، جسے مستقبل میں بڑے زلزلوں کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
سائنس ویب سائٹ SciTechDaily کے مطابق، جریدے Geology میں شائع تحقیق نے فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کی ہے اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنانے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔
تحقیق کے دوران جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تاکہ اس بظاہر “غیر مرئی” فالٹ کی تفصیلات سامنے آئیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے۔ اگر یہ جمع شدہ توانائی اچانک خارج ہوئی تو 7.1 سے 7.4 شدت کے زلزلے کا خطرہ ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔
ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق “پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ” تاریخی طور پر ہر 200 سے 250 سال میں شدید زلزلے کا مرکز رہا ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل نگرانی کے ذریعے خطرناک مقامات کی نشاندہی کی۔ ان کی پیمائشوں سے ظاہر ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو زمین چار میٹر سے زیادہ حرکت کر سکتی ہے۔
ماہرین نے حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق، مناسب ہنگامی تیاری نہ ہونے کی صورت میں استنبول اور ملحقہ علاقوں میں تباہی کے اثرات 1999 کے زلزلے جیسے شدید ہو سکتے ہیں۔
ترکی میں ممکنہ خطرناک زلزلے کی پیشگوئی، سائنسدانوں کی تشویش








