سینئر پاکستانی مصنف، فلم ساز اور پروڈیوسر ناصر ادیب نے اداکار شان شاہد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ان کے رویے پر خاموش نہیں رہوں گا۔
ناصر ادیب جو ماضی کی سپرہٹ فلم مولا جٹ اور حالیہ بلاک بسٹر دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے خالق ہیں، ان دنوں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی پوڈکاسٹ بھی کر رہے ہیں، ان کی آئندہ پنجابی فلم ’بُلّہ‘ جلد ریلیز کے لیے تیار ہے، جس کی کاسٹ میں شان شاہد، نعیمہ بٹ اور مونا لیزا شامل ہیں۔
حال ہی میں اپنے یوٹیوب چینل پر جاری وی لاگ میں ناصر ادیب نے کہا کہ میں معاف کرنے پر یقین رکھتا ہوں، لیکن جب ناانصافی ظلم میں بدل جائے تو ظالم کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا پڑتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ شان شاہد کے خلاف اعلانِ جنگ کیا جائے، جنہوں نے پریس کے سامنے میری تضحیک کی اور ایک لکھاری کی بے عزتی کی۔
انہوں نے بتایا کہ فلم ’بُلّہ‘ کی پریس کانفرنس میں ذاتی مصروفیات کے باعث شریک نہیں ہوا تھا اور پہلے ہی پروڈیوسر کو آگاہ کر دیا تھا کہ میں پریمیئر میں شرکت کروں گا، پریس کانفرنس میں شان شاہد، مونا لیزا، سلیم شیخ اور دیگر فنکار موجود تھے۔
ناصر ادیب کے مطابق جب پریس کانفرنس کے دوران فلم کے رائٹر کے بارے میں سوال کیا گیا تو شان شاہد نے جواب دیا کہ رائٹر کہیں بیٹھا دوسروں کی برائیاں کر رہا ہو گا۔
اس پر ناصر ادیب نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی پوڈکاسٹ میں حقائق بیان کرتا ہوں اور کبھی کسی پر جھوٹے الزامات نہیں لگاتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں فلم کے ہدایت کار کو شان شاہد کو کاسٹ کرنے سے روکا تھا، کیونکہ وہ سیٹ پر تاخیر سے آتے ہیں، مداخلت کرتے ہیں اور کام کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔
ناصر ادیب نے کہا کہ شان شاہد نے بھارت میں کام نہ کرنے کے بیان پر داد سمیٹی، حالانکہ وہ کام کرنے کے لیے تیار تھے مگر مبینہ طور پر 4 کروڑ بھارتی روپے معاوضہ طلب کیا جو قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اچھی کہانی اور مضبوط لکھاری کے بغیر ہٹ فلم بنا کر دکھائیں۔
دوسری جانب شان شاہد کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔









