صدرمملکت کا ملکی دفاع کا عزم، میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا اعلان
رحیم یار خان(نیوزڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہے کیونکہ دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے نظریے کے دشمن پاکستان کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر قوم اپنی عوامی طاقت کے ساتھ نہ صرف بھرپور جواب دے گی بلکہ ملک کو محفوظ اور مضبوط بھی بنائے گی۔
صدر نے زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی نمائندہ جماعت ہے اور قومی یکجہتی کی حقیقی روح کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت ذمہ داری اور جرات کا تقاضا کرتی ہے اور جو شخص خود کو کسی ذمہ داری کا اہل نہیں سمجھتا اسے اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔ بظاہر سیاسی مخالفین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت خوف یا پسپائی نہیں بلکہ ثابت قدمی اور حوصلے کا نام ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت کی قیادت اور کارکنان کے اس خطے سے تاریخی اور گہرے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس مٹی کے مقروض ہیں اور اس کا بہترین صلہ عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنا کر ادا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خدمت ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد ہے۔
مقامی رکن اسمبلی کے مطالبے پر صدر نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت اس علاقے میں یونیورسٹی قائم کرے گی اور انہوں نے بطور صدر اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ مقامی آبادی صحت کی تعلیم اور سہولیات سے براہ راست فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کی پیش رفت کے لیے وہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی بات کریں گے۔
انسانی وسائل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ اگر آبادی میں اضافے کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے تو یہ قومی دولت بن سکتا ہے۔ انہوں نے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بہتر آبی انتظام اور محنت سے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو زیادہ پیداوار پر توجہ دینے کی تلقین کی۔
اپنے سابقہ دور کا حوالہ دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ وہ جنوبی پنجاب کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور یاد دلایا کہ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم اور مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب مقرر کیا تھا تاکہ ترقی اور نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا تھا تاہم 28 فیصد استعمال ہو سکا۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا سیاسی وژن بے مثال ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سکیورٹی خطرات کے باعث دوست ممالک کے مشوروں کے باوجود وہ پاکستان واپس آئیں اور عوام سے کیا گیا وعدہ نبھایا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محبت ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ پاکستان کو ٹکڑے نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات جائز ہو سکتے ہیں مگر مسائل کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات میں ہے اور قومی وسائل و معدنیات کا تحفظ قومی مفاد میں ضروری ہے۔
اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کی جدوجہد میں طویل قید کاٹی اور قیادت جرات و استقامت کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے عوام کی خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنا حکومت عوامی فلاح کے لیے کام کرے گی اتنا ہی ملک مضبوط اور مستحکم ہوگا۔









