سرینگر(نیوز ڈیسک)کشمیر کے عظیم فرزند، معروف طبی ماہر اور انسانیت کے خدمت گزار ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو آج 33 برس مکمل ہو گئے۔
18 فروری 1993 کو ڈاکٹر فاروق عشائی کو بھارتی فوج کے اہلکاروں نے سرینگر میں گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ شہادت کے وقت ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر فریدہ عشائی اور ان کی کمسن بیٹی بھی موجود تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈاکٹر فاروق عشائی کو شدید زخمی حالت میں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، تاہم انہیں سرجری کے لیے لے جانے والی ایمبولینس کو بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے کئی گھنٹوں تک روکے رکھا۔ مسلسل خون بہنے اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
ڈاکٹر فاروق عشائی سرینگر کے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال کے بانی تھے اور شہادت کے وقت میڈیکل کالج سرینگر میں چیف آرتھوپیڈک سرجن اور شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
انہیں کشمیر میں آرتھوپیڈکس کے شعبے کا بانی قرار دیا جاتا ہے اور وہ عوام میں “فادر آف آرتھوپیڈکس” کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے نہ صرف طبی میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں بلکہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے کشمیری شہریوں کے علاج اور ان کی آواز بننے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر فاروق عشائی کی شہادت کو کشمیری عوام آج بھی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت اور انسانیت کی خدمت کی روشن مثال کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی قربانی کشمیری قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔









