پنجاب حکومت کی جانب سے انتہائی مہنگا اور پرتعیش گلف اسٹریم طیارہ خریدنے کی خبروں نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب حکومت کی جانب سے ایک اشتہار دیا گیا جس میں خاص طور پر گلف اسٹریم جی 500 طیارہ اڑانے کے ماہر پائلٹ کی خدمات طلب کی گئی تھیں۔

یہ طیارہ 2019 کا تیار کردہ ہے جسے عام طور پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت یا بڑے کاروباری ادارے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی قیمت کا اندازہ تقریباً 11 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔
Happy to note that the Government of Punjab, Pakistan has acquired a new, 2019-manufactured Gulfstream GVII-G500 aircraft for their VIP transport role. pic.twitter.com/XFp4TgVQUw
— The STRATCOM Bureau (@OSPSF) February 16, 2026
حال ہی میں اس طیارے کو لاہور سے سیالکوٹ کے درمیان پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا اور اس دوران اس نے وہی مخصوص کوڈ ’پنجاب 2‘ استعمال کیا جو عام طور پر وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں استعمال ہوتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے پنجاب حکومت کی جانب سے طیارے کی مبینہ خریداری پر کڑی تنقید کی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 7.32 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف پاکستانی عوام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں اور قربانیاں دیں، تو دوسری طرف پنجاب کے مراعات یافتہ وی آئی پیز پرتعیش نجی طیاروں میں اڑان بھرنے کے لیے اپنی سیٹ بیلٹ باندھ رہے ہیں۔“
Two news reports came yesterday that I was want to juxtapose.
One, Stratcom’s claim (that hasn’t been denied by the Punjab government) that the Punjab government has acquired a Gulf Stream jet for VIPs for between $38m and $42m (or Rs 1064 crore and Rs 1176 crore).
Two, the… https://t.co/NUXD0BXEmy
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) February 17, 2026
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بھی لکھا کہ ”یہ ایک انتہائی خوبصورت طیارہ ہے جس کی مالیت ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے اور اسے پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر اپنی وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے مخصوص اشرافیہ کے زیر استعمال لانے کے لیے خریدا ہے۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”کیا ایک ایسی قوم جو معاشی بدحالی سے نبرد آزما ہو، جہاں 45 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں اور بے روزگاری ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہو، اس طرح کی عیاشی کی متحمل ہو سکتی ہے؟“
Such a beautiful plane worth more than 1000 crore which has been bought by Punjab govt for use of its CM & party’s elite.
Can a nation struggling with economy- 45% people below poverty line and record unemployment afford this luxury ? Punjab govt May issue a denial if not true pic.twitter.com/uTjGlOuGCx— Mohammad Zubair (@Real_MZubair) February 17, 2026
اس تنقید کے بعد پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں وضاحت بھی پیش کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ دراصل پنجاب حکومت کی اپنی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اپنی ایئر لائن کے بیڑے میں مختلف قسم کے جہاز شامل کر رہی ہے جن میں سے کچھ خریدے جا رہے ہیں اور کچھ لیز پر لیے جائیں گے، اور یہ طیارہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
خیبرپختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے جہاز کی مبینہ خریداری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف نے پوری پی آئی اے 10 ارب میں بیچ دی اور پنجاب حکومت نے 11 ارب روپے کا ایک جہاز خرید لیا۔
انہوں نے طنزیہ کہا کہ 13 کروڑ آبادی کے لیے 19 سیٹوں والا جہاز خریدا گیا ہے، یہ ہوتی ہے گورننس۔
ایک طرف 75 فیصد PIA شھباز صاحب نے 10 ارب کی بیچ دی۰ دوسری طرف انہی کی پنجاب کی صوبائ حکومت نے ایک 19 سیٹوں والا جہاز 11 ارب کا خرید لیا۰ یہ ہوتی ہے گورننس https://t.co/gECr7OhaXH
— Muzzammil Aslam (@MuzzammilAslam3) February 18, 2026
مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ نو میٹر کی بس میں بھی 50 سیٹس ہوتی ہیں، 19 نشستوں والا جہاز 1100 کروڑ روپے کا ہے، ایئر پنجاب کا پیسنجر 58 کروڑ کا پڑے گا اور اس کی مرمت، ایندھن اور عملہ الگ ہوگا۔









