جنیوا:(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے جنیوا میں یو این ای سی ای کی ان لینڈ ٹرانسپورٹ کمیٹی کے 88 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی پل بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیلاروس، روس اور وسطی ایشیا راہداری میں شمولیت علاقائی روابط کے لیے نیا دور کھول رہی ہے اور سی پیک کے تحت تعمیر و ترقی کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ پاکستان کے راستے روس اور وسطی ایشیا تک تجارتی راہداریاں فراہم کی جا رہی ہیں اور ایم-6 موٹروے منصوبہ سرمایہ کاروں کے لیے بہترین اور منافع بخش موقع ہے۔
عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ 1800 سے زائد ٹی آئی آر آپریشنز پاکستان کی بہترین لاجسٹکس کا ثبوت ہیں، عالمی قوانین اور یو این کنونشنز پر عملدرآمد سے تجارت آسان ہو رہی ہے، اور این ایل سی ازبکستان اور قازقستان کے ساتھ مل کر تجارتی انقلاب لا رہی ہے۔
انہوں نے خنجراب سے بندرگاہوں تک شاہراہوں کو علاقائی رابطوں کا مضبوط ستون قرار دیا، اور بتایا کہ گوادر پورٹ پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے 100 ایکڑ کا ٹرمینل مختص ہے، جبکہ کراچی پورٹ کی گنجائش لینڈ لاکڈ ریاستوں کو سمندر تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
وزیر مواصلات نے وزارت کے ٹریفک ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کے پروگرام، اور 126 ممالک کے لیے ویزہ آن ارائیول کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان محض ٹرانزٹ ملک نہیں بلکہ معاشی رابطوں کا مرکز بن رہا ہے۔









