واشنگٹن(نیوز ڈیسک)سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلی کلنٹن نے افغان طالبان رجیم پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی، شہری آزادیوں پر قدغنیں اور خواتین کے حقوق کی پامالی طالبان رجیم کا ٹریڈ مارک بن چکی۔
بین الاقوامی جریدے فارن افئیرز میں شائع ہونے والے ہیلری کلنٹن کے مضمون کے مطابق اقتدار پر قابض طالبان رجیم نےافغان خواتین کو سیاسی،سماجی اور معاشرتی زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیا،طالبان رجیم نے خواتین کی ثانوی تعلیم، یونیورسٹیوں میں داخلے اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ افغان خواتین کےتعلیم و ملازمت پر پابندیاں طالبان رجیم کے اقتدار کو طول دینے کے ہتھکنڈےہیں،افغان طالبان مذہب کی آڑ میں نصف آبادی کو خاموش کر کے اپنی طاقت مضبوط کر رہے ہیں،طالبان رجیم کا خواتین پر ظلم آمرانہ اقتدار کو مضبوط کر رہا ہے اسے روکنا اخلاقی اور سیاسی فریضہ ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان رجیم عوامی فلاح کے بجائے کنٹرول اور نظریاتی غلبے کو ترجیح دے رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات عام افغان شہریوں بلخصوص خواتین پر پڑ رہے ہیں،خواتین کے حقوق پر حملہ، معلومات اور معاش سے محروم کرنا طالبان رجیم کی طاقت مستحکم کرنے کی سفاک حکمت عملی ہے۔









