بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مودی کا انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈا ، بھارتی جامعات میں تعلیمی آزادی پر قدعن

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) مودی سرکار کے انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بھارتی جامعات میں تعلیمی آزادی پر قدغنیں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے باعث اختلافِ رائے، تنقیدی سوچ اور شناخت کے اظہار کو شدید پابندیوں کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے بھارت میں داخلی تقسیم اور سماجی و سیاسی کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مذہبی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ ریاستی پالیسیوں کے باعث ناقد آوازیں خاموش کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سنسرشپ معمول بنتی جا رہی ہے اور تحقیق و تدریس کو سیاسی بیانیے کے تابع کیا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نئی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس پر شدید سیاسی دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں علمی مباحث کو محدود کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ذات، اقلیتوں کے حقوق، قوم پرستی یا ریاستی تشدد پر تنقیدی نقطہ نظر کو سیاسی طور پر متحرک قرار دے کر مسترد کیا جا رہا ہے۔

دی وائر کے مطابق انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ جیسے عوامی فنڈنگ ادارے بھی حکومتی سیاسی بیانیے کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں، جس سے آزاد تحقیق بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی جامعات میں آزادیٔ رائے پر پابندی نے مودی کے جمہوری دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے تعلیمی ادارے علمی گہوارے کے بجائے نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت کے کٹھ پتلی اداروں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

ماہرین نے مزید کہا کہ اقلیتوں کی آواز دبانے کے بعد اب مودی سرکار تعلیمی اداروں اور اسکالرز کی آواز کو بھی دبانے پر عمل پیرا ہے، جو نہ صرف تعلیمی آزادی بلکہ بھارت کے جمہوری تشخص کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔