بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایک گناہ گار دوسرے گناہ گار کو کس طرح جج کرسکتا ہے؟ سامعہ حجاب کا ناقدین کو جواب

سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب نے اپنی عمرہ کی ویڈیوز پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سامعہ حجاب نے ناقدین کو جواب دیا اور کہا کہ ایک گناہ گار دوسرے گناہ گار کو کس طرح جج کرسکتا ہے؟

انسٹاگرام پر 8 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی انفلوئنسر ان دنوں مکہ مکرمہ میں موجود ہیں، جہاں وہ رمضان المبارک عبادت میں گزار رہی ہیں۔

انہوں نے عمرہ بھی ادا کیا، تاہم ان کے اس اقدام پر بعض سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی۔ ان کی پوسٹس کے کمنٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ گناہ کرنے کے بعد اب معافی مانگنے مکہ پہنچ گئی ہیں۔


سامعہ حجاب نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پڑھا کہ ایک نے لکھا تھا 900 چوہے کھا کر حج کرنے پہنچ گئی۔ دیکھیں، میں اس وقت مکہ میں ہوں، خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھی ہوں اور اللّٰہ سے بہت باتیں کر رہی ہوں۔ میں اکثر اللّٰہ سے سوال کرتی ہوں کہ کچھ معاملات کیوں پیش آئے اور ان کی درستگی کی دعا کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اللّٰہ میرے مسائل حل کرتا ہے، مجھ پر کرم فرماتا ہے اور مجھے معاف کرتا ہے۔ یہ اردو کی کہاوت کس نے بنائی کہ ’9سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی؟‘ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ مکہ میں گناہ گار بھی عمرہ کرتے ہیں اور نیک لوگ بھی؟ کوئی کسی کے دل کا حال کیسے جان سکتا ہے؟ اگر اللّٰہ کسی کو اپنے گھر بلا رہا ہے تو وہ اس کے دل کا حال بہتر جانتا ہے۔ دوسروں کو جج کرنا بند کریں۔

سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کہا کہ میں یہاں ہوں اور آپ اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں، چاہے کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں، لیکن اس دنیا سے کیا توقع کی جائے جس نے حضرت محمد ﷺ کے نواسے کو پانی تک نہ دیا۔

سامعہ حجاب کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے، متعدد صارفین جہاں ان کی ہدایت اور دعا کی درخواست کو سراہا رہے ہیں وہیں بعض افراد نے تنقیدی رویہ برقرار رکھا ہے۔