امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ کی موجودہ جنگ پر اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی تباہی کو اسرائیل کی جانب سے انجام دی گئی کارروائی کے طور پر دیکھنا مناسب ہے۔ انہوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا کی کارروائیوں سے کیا اور کہا کہ جنگ میں تباہی فطری ہے۔
ایک صحافی نے سینیٹر سے سوال کیا کہ کیا غزہ کی تباہی مسیحی اقدار کے مطابق ہے؟ جس پر لنزے گراہم نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے جرمن اور جاپانی شہریوں کا زیادہ خیال نہیں رکھا اور برلن اور ٹوکیو کو مکمل طور پر تباہ کیا۔ ان کے مطابق جاپان میں ایٹمی بم گرایا جانا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے درست اقدام تھا۔
سینیٹر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں جو اقدامات کیے، وہ کسی بھی اسرائیلی قیادت کے لیے یہی ممکنہ اقدام ہوتا، اور عالمی تناظر میں انہیں درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان امریکی سیاسی حلقوں میں بحث اور تنقید کا سبب بنا ہے، اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی ردِ عمل کو بھی متحرک کر رہا ہے۔
امریکی سینیٹر نے امریکا کا جاپان پر ایٹمی حملہ درست قرار دے دیا








