پشاور پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ہم نے پرامن اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا، جبکہ قابض عناصر نے اس معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر ہم اس معاملے پر سیاست کرتے تو رویہ کچھ اور ہوتا، اور انہوں نے فرینڈ آف کورٹ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے مسئلے کا سامنا ہے۔
سہیل آفریدی نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافت کو مضبوط اور آزاد رکھنا ضروری ہے، اور وہ ہمیشہ صحافیوں کی مثبت تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے پشاور کے صحافیوں کو مشکل وقت میں حق اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کال پر کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، اور وفاقی حکومت ہمارا قرض دینے میں تاخیر کر رہی ہے، اس لیے سب کو مل کر ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے، جس پر میڈیا بھی متحرک ہوا، لیکن کسی ایک وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدا اور قوم کا پیسہ ضائع ہوا تو صحافیوں کو بولنا چاہیے۔
تقریب کے آخر میں وزیراعلیٰ نے پشاور پریس کلب کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا، جس سے صحافیوں کے لیے سہولت اور میڈیا کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرتے، صحافت کو مضبوط کرنے کی حمایت








