بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران اور امریکہ کے تنازع میں چین و روس کی ممکنہ حمایت: حقیقت کیا ہے؟

تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہر بار یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر معاملہ جنگ تک پہنچا تو کیا ایران چین اور روس کی حمایت پر بھروسہ کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے تعلقات زیادہ تر حکمتِ عملی اور وقتی مفاد پر مبنی ہیں، نہ کہ کوئی پکا فوجی اتحاد۔
میڈیا میں اکثر ‘محور’ یا ‘بلاک’ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کا نہ روس اور نہ ہی چین کے ساتھ کوئی باضابطہ فوجی اتحاد موجود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اتحاد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا لازمی طور پر دفاع کے لیے کھڑا ہو۔ ایران اور ان دونوں طاقتوں کے درمیان ایسا کوئی عہد موجود نہیں۔
تاہم، بعض شعبوں میں ایران کی ’سٹریٹیجک شراکت داری‘ نے تعلقات کی ایک حد تک مضبوطی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر، جنوری 2024 میں ایران اور روس کے درمیان طے پانے والا سٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون پر زور دیتا ہے، لیکن اس میں کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں براہِ راست فوجی مداخلت کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کریں گے، مگر یہ ایک جامع دفاعی معاہدے سے مختلف ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ کچھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے شعبے موجود ہیں، لیکن ایران کسی بھی وقت چین یا روس سے لازمی فوجی حمایت کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر حمید رضا عزیزی کے مطابق اتحاد ریاستوں کے درمیان تعلقات کی سب سے بلند سطح ہے، اور ایران کے معاملے میں ایسا کوئی پکا اتحاد نہیں پایا جاتا۔
مختصر یہ کہ چین اور روس ایران کے قریبی شراکت دار ضرور ہیں، مگر ایک حقیقی فوجی اتحادی کے طور پر ان کی حمایت پر مکمل بھروسہ کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔