سندھ اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ صوبے کی تقسیم اور کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے خلاف قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔
ایوان میں ہفتے کے روز اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی، جسے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین نے بھی حمایت دی۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا، اور صوبے کی تقسیم یا کراچی کو الگ بنانے کی کسی بھی کوشش کو تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو توڑنے یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی باتیں قابلِ مذمت ہیں، اور جو بھی اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کے مخالف کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کے قیام میں سندھ نے بنیادی کردار ادا کیا اور کراچی تاریخی، جغرافیائی اور جذباتی طور پر ہمیشہ سندھ کا حصہ رہا ہے۔
قرارداد میں سندھ کی ثقافتی اور تاریخی شناخت پر زور دیا گیا، اور کہا گیا کہ موہنجو دڑو، وادی سندھ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لعل شہباز قلندر کی سرزمین سندھ کی پہچان اور ثقافتی ورثہ ہیں، جو جدید سیاسی سرحدوں سے قبل بھی قائم رہی۔
سندھ اسمبلی نے اپنی قرارداد میں 1936 میں سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی، 1955 میں ون یونٹ اسکیم کی مخالفت، 1970 میں سندھ کی الگ حیثیت کی بحالی، اور 1973 کے آئین میں وفاقی ڈھانچے کی توثیق کے تاریخی حوالہ جات بھی دیے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور وفاقی اتحاد کی علامت ہے، اور سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
ایوان کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کی جاتی ہے اور کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے جو ہمیشہ رہے گا۔
سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کرنے کی کوششوں کے خلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم نے مخالفت کی








