امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر عائد ٹیرف میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کیا۔
اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بطور صدر وہ دنیا بھر کے ممالک پر عائد 10 فیصد عالمی ٹیرف میں مزید 5 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک گزشتہ دہائیوں سے امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات میں غیر منصفانہ رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہو گیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ آنے والے مہینوں میں امریکی حکومت قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نئے اور قابلِ اطلاق ٹیرف کی حتمی شرح طے کرے گی۔
اس سے قبل وہ تمام ممالک پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرچکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ عارضی ڈیوٹی 150 دن کے لیے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر لاگو ہوگی، تاہم بعض اشیا کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، مختلف دھاتیں، توانائی سے متعلق آلات، زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نئی ڈیوٹی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین تجارتی معاہدے پر لاگو نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، جس کے بعد اس معاملے پر قانونی اور سیاسی بحث بھی جاری ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی ٹیرف 15 فیصد کرنے کا اعلان








