اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سانحہ ڈوڈی پورہ کو 20 سال بیت گئے، تاہم کشمیری شہداء کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ بھارتی قابض افواج کی بربریت، ظلم اور بے گناہ کشمیریوں کے خون سے لکھی گئی ہے، جہاں حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔
22 فروری 2006 ایک ایسا ہی المناک دن تھا جب ڈوڈی پورہ کرکٹ گراؤنڈ کو خون میں نہلا دیا گیا۔ بھارتی قابض فوج نے کرکٹ کھیلتے معصوم نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار نوجوان شہید جبکہ متعدد شدید زخمی ہو گئے۔ اس انسانیت سوز واقعے کے بعد مقامی افراد نے سڑکوں پر نکل کر بھارتی فوج کی دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔
شہدائے ڈوڈی پورہ کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ اس واقعے پر بھارتی اور عالمی اداروں کی خاموشی شرمناک قرار دی جا رہی ہے۔ پاکستانی قوم ہر سال اس دن اپنے کشمیری بھائیوں کے غم میں شریک ہو کر بھارتی بربریت کی مذمت کرتی ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔









