بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق جہانگیری کی تقرری کالعدم

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری جج برطرفی کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا جس میں کہا گیاہے کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب احتساب سے بالاتر اور مقدس ہونا نہیں، اہلیت اور قابلیت میں نقص یا دھوکا دہی پر جج منصب پر رہنے کا حقدار نہیں ہے۔

فیصلے کے مطابق ایسے شخص کو قانوناً فوری طور پر عہدے سے الگ کیا جانا چاہیے، ایسی برطرفی عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے، احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے، آزاد،اہل اور قابل اعتماد عدلیہ کے بغیر انصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے، عدالتیں ججز کی سہولت کیلیے نہیں،معاشرے کے فائدے کیلئے بنائی گئی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیاہے کہ غیر قانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے، عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو تو سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ججز کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزوہے، عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں، انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں ۔

تفصیلی فیصلہ کے مطابق وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کر سکتا، درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی، غلط تقرری کو بعد کی انتظامی کارروائیوں سے درست نہیں کیا جاسکتا، عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنےوالا شخص ہی سنبھال سکتا ہے، طارق جہانگیری کی بطورجج تقرری کالعدم قراردی جاتی ہے۔