بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کی نئی لہر، جامعات کے طلبہ پیش پیش

ایران میں ایک بار پھر احتجاجی فضا گرم ہو گئی ہے، اور اس بار بھی طلبہ صفِ اول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف جامعات میں نوجوانوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز کیا ہے جو مسلسل دوسرے اور تیسرے روز بھی جاری رہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق University of Tehran، Amirkabir University of Technology اور Sharif University of Technology سمیت کئی تعلیمی اداروں میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ملک کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
احتجاج کے دوران کچھ مظاہرین نے انقلابِ ایران سے قبل استعمال ہونے والا ’’شیر و سورج‘‘ والا پرانا قومی پرچم بھی لہرایا، جو حالیہ برسوں میں حکومت مخالف علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طلبہ کی جانب سے ’’ہم اس حکومت کو نہیں چاہتے‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ احتجاج محض تعلیمی یا مقامی نوعیت کا نہیں بلکہ سیاسی رنگ اختیار کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم صورتحال کے بارے میں سرکاری سطح پر محدود معلومات سامنے آئی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تازہ احتجاجی لہر گزشتہ مہینے ہونے والے بڑے مظاہروں اور ان کے بعد کیے گئے سخت کریک ڈاؤن کے پس منظر میں ابھری ہے۔ اس سے قبل ہونے والے احتجاجوں میں سیکڑوں افراد کے ہلاک اور ہزاروں کی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ موجودہ حالات نے ایک بار پھر ایران کے سیاسی منظرنامے میں بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں نوجوان نسل تبدیلی کے مطالبات کے ساتھ میدان میں نظر آ رہی ہے۔