پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سیاسی اختلافات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کو نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو پاکستان کی بہتری کے لیے مل بیٹھنا ہوگا اور ملکی دفاع کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت انصاف فراہم کرنے والی ہے، لیکن 3 کروڑ ووٹ لینے والے لیڈر کو انصاف نہ ملنا تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ خانہ کی ملاقات کو محدود کرنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اور انہیں چاہیے کہ پارٹی کے بانی کے ساتھ ملاقات کا موقع فراہم کریں۔
انہوں نے پارٹی کے بانی کے علاج کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ اس بار ڈاکٹر سے براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، لیکن انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پی ٹی آئی کسی بھی فیصلے میں جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچانے دے گی اور رہائی کا عمل عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی غیر آئینی فورس استعمال کی جائے۔ ان کے مطابق پارٹی ہر فورم پر اپنے موقف اور عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر: سیاسی اختلافات کو نفرت میں مت بدلیں








