دبئی میں ایک کمپنی کے شریک بانی ملک اے نے انتظامی غلطی تسلیم کی ہے کہ ورک فرام ہوم کی ایک سادہ درخواست مسترد کرنے کے باعث ان کا بہترین ملازمہ ادارہ چھوڑ گئی۔
ملک اے نے لنکڈ اِن پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ملازمہ نے جمعے کے دن گھر سے کام کرنے کی درخواست کی تھی، جبکہ اس کا کام زیادہ تر خودمختار نوعیت کا تھا۔ مالک نے خوف ظاہر کیا کہ اگر اجازت دی گئی تو باقی ملازمین بھی یہی مطالبہ کریں گے اور دفتر کا نظم متاثر ہوگا۔
انہوں نے لکھا کہ ملازمہ نے اس فیصلے پر بحث نہیں کی اور بس اوکے کہہ دیا، لیکن دو ماہ بعد اس نے استعفیٰ دے دیا۔ ایگزٹ انٹرویو میں ملازمہ نے بتایا کہ جمعے کا معاملہ بنیادی وجہ نہیں تھا، لیکن اسے محسوس ہوا کہ اس پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔ اضافی طور پر وہ روزانہ دو گھنٹے کا سفر کرتی تھی اور جمعے کا ٹریفک سب سے مشکل ہوتا تھا۔
ملک اے نے اعتراف کیا کہ یہ انکار محض ایک ممکنہ مسئلے کے خوف پر مبنی تھا، اور اس سے انہوں نے سبق سیکھا کہ بعض اوقات جو چیز ہم انتشار سمجھتے ہیں، وہ دراصل وفاداری اور بہتر کارکردگی پیدا کرتی ہے۔
اب وہ ہر معقول درخواست منظور کرتے ہیں اور تجربے سے اندازہ ہوا کہ دفتر تباہ نہیں ہوتا، کسی نے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ملازمین اور زیادہ بہتر کام کرنے لگے۔
لنکڈ اِن پر یہ پوسٹ وائرل ہونے کے بعد صارفین نے تبصرہ کیا کہ اکثر ادارے اپنی ملازمین کی قدر اُس وقت کرتے ہیں جب وہ جا چکے ہوں۔
دبئی: ورک فرام ہوم سے انکار پر بہترین ملازمہ کی روانگی، مالک کا پچھتاوے بھرا اعتراف وائرل








