امریکہ نے ایران کے معاملے پر اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو فوجی آپشن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ بھی ان کے اختیار میں ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے، جس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو معاہدے کے لیے پہلے ہی محدود مہلت دے چکے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ اپنے خطاب میں وہ ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنا واضح موقف پیش کریں گے۔
وائٹ ہاؤس: ایران کے خلاف طاقت کا آپشن برقرار، سفارتکاری ناکام ہوئی تو استعمال کیا جا سکتا ہے








