روس نے برطانیہ اور فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق ٹیکنالوجی اور پرزے فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم ان ممالک کی جانب سے اس دعوے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
روسی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ جوہری طاقتوں کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم انتہائی سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
قبل ازیں روسی انٹیلی جنس سروس نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ اور فرانس خفیہ طور پر یوکرین کی مدد کر رہے ہیں، جسے فرانس نے مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا۔
یوکرین کے صدر زلنسکی نے کہا کہ یوکرین اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور بین الاقوامی اتحادی ممالک سے مزید مدد کی اپیل کی ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ یوکرین امن عمل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر جی سیون ممالک کے رہنما، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وندیر لئین نے کہا کہ یورپی یونین یوکرین کے لیے مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
دوسری جانب روسی افواج یوکرین کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے توانائی کے نظام اور شہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
روس کا برطانیہ اور فرانس پر یوکرین کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام








