اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ جو لوگ بانی پی ٹی آئی کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ اپنے آپ سائیڈ پر ہو جائیں۔
علیمہ خان نے واضح کیا کہ پارٹی نے سابق وزیر اعظم کی صحت کے معاملات میں شامل ہو کر فیصلے کیے، مگر انہیں اور دیگر قریبی افراد کو اس سے متعلق مکمل آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 13 ماہ سے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ آ رہے ہیں، اور بعض اوقات چیف جسٹس عدالت چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز کے فیصلے التوا کا شکار رہے۔
انہوں نے کہا: “بانی پی ٹی آئی کی صحت اور کیسز ہمارا مسئلہ ہے، پارٹی کے اندر کوئی مداخلت ہمارے علم اور اجازت کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، ہماری منظوری کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔”
علیمہ خان نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے الشفاء ہسپتال کے بجائے جیل میں علاج کرانے کے فیصلے کیے، جس پر انہیں اور ان کی بہنوں کو درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے محسن نقوی اور دیگر پارٹی رہنماؤں پر الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور کیسز کے حوالے سے ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے صحت کے معاملے میں پارٹی کی طرف سے کوئی خودسرانہ فیصلہ نہیں ہونا چاہیے اور جو لوگ اس ذمہ داری کا صحیح بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ سائیڈ پر ہو جائیں۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ اب وہ اور ان کی بہنیں پارٹی کو بند کمروں میں نہیں بلکہ میڈیا کے سامنے آگاہ کریں گی تاکہ عوام تک صحیح معلومات پہنچیں، اور پارٹی قیادت کو واضح کر دیا جائے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور کیسز پر کسی بھی قسم کی خودسرانہ کارروائی ناقابل قبول ہے۔
جو بانی پی ٹی آئی کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے: علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر تنقید کر دی








