گُل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے ریسکیو رضا کار دانش کے بیان کے بعد کے ایم سی افسران، ڈی جی ریسکیو اور فائر سروس کے اعلیٰ اہلکاروں کو جواب دہ ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
کمیشن کی کارروائی کے دوران شہری سید عبد اللہ نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت وہ نائن فلور پر موجود تھے۔ شاپنگ مکمل ہونے کے بعد دکانداروں نے سامان باہر نکالنے کا کہا۔ آگ کے تیز ہونے پر وہ واپس آئے اور گرل کے گیٹ کو موڑ کر باہر نکلے۔ سید عبد اللہ نے کہا کہ پرائیوٹ ٹرک پر اتارے جانے کے بعد انہیں بے ہوشی طاری ہوئی اور تین بجے ہوش آیا۔
جسٹس آغا فیصل کے سوال پر سید عبد اللہ نے بتایا کہ ایمبولنس کے علاوہ کوئی ریسکیو ٹیم موجود نہیں تھی اور کسی کو گرل کے ذریعے نکلتے نہیں دیکھا گیا۔
ریسکیو رضا کار دانش نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ دیکھ کر انہوں نے فائر فائٹرز کی مدد کی پیشکش کی اور دو لیڈرز کے ذریعے سیڑھی سے اوپر گئے۔ ایک ایدھی رضاکار نے بھی مدد کی اور تقریباً 6 سے 7 افراد کو نکالا۔ دانش نے بتایا کہ بغیر گیس ماسک کے کام کرنا ناممکن تھا اور سیکنڈ اور تھرڈ فلور پر آگ موجود نہیں تھی۔
دانش نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں اگر بہتر تیاری ہوتی تو صورتحال زیادہ قابو میں ہوتی، دھواں زہریلا تھا اور ریسکیو کے لیے گیلے کپڑوں کا استعمال کرنا پڑا۔ فائر حکام کو زیادہ تربیت یافتہ محسوس نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چھت پر پہنچنے پر جنریٹر میں آگ لگی، چار افراد کو بچایا گیا اور اگر بجلی بند نہ کی جاتی تو زیادہ اموات ہو سکتی تھیں۔
اس پیش رفت کے بعد گُل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے ڈی جی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، کے ایم سی کے میونسپل کمشنر اور چیف فائر آفیسر کو 27 فروری تک جواب دینے کا حکم دے دیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریسکیور دانش کے بیان میں سنگین نوعیت کے الزامات شامل ہیں جن پر کمیشن میں جرح ہوگی۔
گُل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے ریسکیو رضا کار کے بیان پر کے ایم سی افسران اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیے








