پولیس نے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری اور غیر ملکیوں کو فروخت کرنے والے گینگ کے خلاف ایک شہری کے اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایک نجی میڈیاکے مطابق مقدمے میں سیکشن 109 کے ساتھ ساتھ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جو پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی سفارش پر شامل کی گئیں۔ مقدمے میں سیکشن 10، 11 اور 12 بھی شامل ہیں۔
اس سلسلے میں پولیس نے دو ملزمان، نرس فردوس خالد اور سہیل شمیم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد، نرس فردوس خالد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ سہیل شمیم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔
مزید برآں، پولیس نے مغوی ارسلان کا عدالت میں سیکشن 164 کا بیان بھی قلمبند کروایا، جس میں اس نے تمام واقعے کی تصدیق کی۔
مقدمے میں نامزد دیگر افراد حاجی شہزاد، ڈاکٹر فاروق، نواب خان اور علی خان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ پولیس نے 5 نامعلوم ملزمان کو بھی مقدمے میں شامل کیا ہے۔
یہ کیس غیر قانونی اعضا کی تجارت کے خلاف قانونی کارروائی میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس پر پولیس کی کارروائی تیز رفتار جاری ہے۔
غیر ملکیوں کو گردے فروخت کرنے والے گینگ کے ہاتھوں شہری کے اغوا کا مقدمہ درج








