اسلام آباد (طار ق محمود سمیر)جنوبی وزیرستان میں قائم کیڈٹ کالج وانا ایک بار پھر طلبہ کی آوازوں سے گونج اٹھا ہے۔ نومبر 2025 میں دہشتگرد حملے کے باعث متاثر ہونے والے اس اہم تعلیمی ادارے میں صرف تین ماہ کے قلیل عرصے میں کلاسز دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق شرپسند عناصر، جنہیں سرکاری سطح پر “فتنہ الخوارج” قرار دیا جاتا ہے، نے کالج کو نشانہ بنا کر علاقے کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ نے فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے مرمتی کام تیزی سے مکمل کیا اور ادارے کو دوبارہ فعال بنا دیا۔
مقامی قبائلی عمائدین اور والدین نے تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم دشمن عناصر کا اصل ہدف قبائلی نوجوانوں کا روشن مستقبل ہے، مگر ریاست اور عوام کے باہمی تعاون نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ایک تعلیمی ادارے کی بحالی ہے بلکہ یہ پیغام بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کا سفر رکے گا نہیں۔ طلبہ کی واپسی سے کیمپس میں زندگی لوٹ آئی ہے اور والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ان کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جاری ہو چکا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشتگرد عناصر کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پشتون روایات اور انسانیت سے۔ ایسے حملے دراصل معاشرے کی جڑوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہوتے ہیں، جن کا مقابلہ اتحاد، حوصلے اور تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔
کیڈٹ کالج وانا میں کلاسز کی بحالی اس عزم کی علامت ہے کہ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کا تعلیمی سفر جاری رہے گا اور دہشتگردی کے سائے ان کے خوابوں کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکتے۔
پاک فوج کی کاوشوں سے کیڈٹ کالج وانا میں تعلیمی سرگرمیاں بحال، قبائلی نوجوانوں کا مستقبل دوبارہ روشن








