بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کے مبینہ محفوظ ٹھکانے، علاقائی سلامتی پر سوالات

اسلام آباد (طارق محمود سمیر)افغانستان کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر علاقائی اور عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ افغان اخبار ہشت صبح کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ غزنی میں چار رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے گئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر القاعدہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (جسے سرکاری بیانات میں فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے) کے ارکان کے لیے مختص بتایا گیا ہے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ ان مقامات پر مذہبی مدارس بھی قائم ہیں اور خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ افغانستان میں بعض بین الاقوامی اور علاقائی شدت پسند گروہوں کی موجودگی برقرار ہے۔ تاہم افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور اپنے مؤقف میں کہتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ انسانی بحران نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدامنی، معاشی مشکلات اور بین الاقوامی تنہائی نے افغان عوام کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے، سرحدی سیکیورٹی کے مؤثر نظام اور سفارتی روابط کے فروغ پر توجہ دی جائے۔ پاکستان متعدد مواقع پر عالمی برادری کو افغانستان میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات اور شواہد سے آگاہ کرتا رہا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دیرپا استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں، افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے، اور افغان عوام کو امن، روزگار اور بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔