بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گرین ٹورزم پاکستان کی حکمتِ عملی سے قومی سیاحت میں نئی روح، سرمایہ کاری اور عالمی توجہ میں اضافہ

اسلام آباد (طارق محمود سمیر) پاکستان میں سیاحت کو منظم، پائیدار اور معاشی طور پر مضبوط شعبہ بنانے کے لیے حالیہ برسوں میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہی کوششوں کے تحت گرین پاکستان انیشیٹو کی سرپرستی میں قائم گرین ٹورزم پرائیویٹ لمیٹڈ سیاحتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ ادارہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے زیر اہتمام قائم کیا گیا، جس کا مقصد زراعت، لائیو اسٹاک اور سیاحت جیسے اہم شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ حکام کے مطابق گرین ٹورزم نے مختصر عرصے میں سیاحت کو نہ صرف معاشی استحکام کا ذریعہ بنایا بلکہ اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی پیش رفت کی۔
غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ
2024 میں گرین ٹورزم پاکستان کے قیام کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیاحتی مقامات پر بہتر سہولیات، سیکیورٹی اور منظم انتظامات نے پاکستان کو ایک پرکشش منزل کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
مربوط سیاحتی زونز اور جدید سہولیات
ملک کے اہم سیاحتی مقامات پر جدید سہولیات سے آراستہ مربوط سیاحتی زونز قائم کیے جا رہے ہیں۔ رہائش، سفری سہولت، تفریح اور مقامی ثقافت کو یکجا کر کے سیاحوں کو جامع تجربہ فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔محض 18 ماہ کے عرصے میں 78 سیاحتی املاک کے معاہدے طے پائے، جن میں 17 ہائی اینڈ ہوٹلز اور ریزورٹس شامل ہیں۔ ان میں سے 15 پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں، جو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو معیاری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
ضابطہ جاتی اصلاحات اور تشہیر پر توجہ
سیاحتی شعبے میں موجود ضابطہ جاتی خلا، کمزور تشہیری حکمت عملی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنا گرین ٹورزم پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ادارہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ سیاحت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ مقامی معیشت، روزگار اور ثقافتی فروغ کو بھی تقویت ملے۔
قومی سیاحت کے لیے نئی سمت
گرین پاکستان انیشیٹو کی رہنمائی میں گرین ٹورزم پاکستان نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو سیاحت مستقبل قریب میں ملکی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی، نجی و سرکاری شراکت داری اور طویل المدتی وژن کے ذریعے پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔