اسلام آباد (طارق محمود سمیر) کینیڈا میں ایک اور سکھ رہنما کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کی خبر نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے Global News کے مطابق کینیڈین حکام نے سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے سربراہ مونندر سنگھ کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کے مطابق مونندر سنگھ اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2022 میں بھی انہیں مقتول سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجار کے ساتھ مبینہ طور پر دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ ہردیپ سنگھ نِجار کو 2023 میں کینیڈا میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اوٹاوا اور نئی دہلی کے تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
کینیڈین حکام اس سے قبل بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ کینیڈا میں بعض غیر ملکی عناصر کی جانب سے مداخلت، غلط معلومات کی مہمات اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارہ Federal Bureau of Investigation نے امریکا میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ سازش کا انکشاف کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ الزامات اگر ثابت ہوتے ہیں تو یہ بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور تارکینِ وطن برادریوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ وہ شدت پسندی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی اختلافات اور سیکیورٹی خدشات کس طرح سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور سفارتی مکالمہ ہی ایسے تنازعات کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔









