امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران دو مسلم کانگریس ارکان، الہان عمر اور رشیدہ طلیب، کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں “جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس بھیج دینا چاہیے۔”
صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں حکومت کی امیگریشن پالیسی اور کریک ڈاؤن کا دفاع کر رہے تھے کہ اس دوران عمر اور طلیب نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ “آپ نے امریکیوں کو قتل کیا ہے۔” بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر دونوں ارکان کو “بدعنوان اور کرپٹ سیاستدان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ غیر مناسب تھا اور وہ امریکا کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
الہان عمر، جو ریاست منی سوٹا سے کانگریس کی رکن ہیں، نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر کو صرف یاد دلایا کہ ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں ان کے حلقے کے دو افراد ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ اس سال منی سوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے دوران دو امریکی شہری وفاقی اہلکاروں کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
رشیدہ طلیب، جو امریکی کانگریس میں فلسطینی نژاد پہلی خاتون رکن ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دو مسلم خواتین کی آواز کو برداشت نہیں کر سکے۔ خطاب کے دوران چند دیگر ڈیموکریٹ ارکان نے بھی احتجاج کیا جبکہ ایک رکن کو ایوان سے باہر بھیج دیا گیا۔ اس واقعے نے امریکی سیاست میں ایک بار پھر امیگریشن اور نسلی حوالے سے بحث کو تیز کر دیا ہے۔
ٹرمپ کی تنقید، الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے خلاف سخت الفاظ








