امریکا اور ایران آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ میں شریک ہیں، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔ یہ مذاکرات خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں کیونکہ حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھائی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر “خطرناک جوہری عزائم” کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ اور امریکی اڈوں کے ساتھ مستقبل میں امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو “بڑے جھوٹ” قرار دیا اور کہا کہ ایران کے میزائل زیادہ سے زیادہ دو ہزار کلومیٹر تک کی حد رکھتے ہیں۔ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ حد تقریباً تین ہزار کلومیٹر ہو سکتی ہے، جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہے۔
مذاکرات کا بنیادی موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس پر مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اب امریکا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اسرائیل مخالف گروہوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے کا خواہاں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کو میزائل پروگرام پر بات کرنی ہوگی، اور انکار “ایک بڑا مسئلہ” ہوگا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت امید ظاہر کی اور کہا کہ یہ عمل موجودہ “نہ جنگ نہ امن” کی صورتحال سے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جنہوں نے ان مذاکرات کو “تاریخی موقع” قرار دیا۔ امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان عمان اور جنیوا میں بھی بات چیت ہو چکی ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، جس میں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑی جنگ کے خدشات موجود ہیں، تاہم کئی علاقائی ممالک امریکا کو ایران پر حملے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تہران میں عوامی سطح پر بھی رائے منقسم ہے کہ آیا کشیدگی جنگ کی شکل اختیار کرے گی یا سفارتی حل نکل آئے گا۔
جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ: امریکا ایران کے میزائل پروگرام پر بات چیت کو مرکزی نکتہ بنا دے








