ٹوکیو(ویب ڈیسک)جاپان میں سالانہ بنیادوں پر پیدائش کی شرح کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ جاپان کی وزارتِ صحت، محنت و بہبود کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ مسلسل دسویں سال ہے کہ پیدائش کی شرح نئی کم ترین حد تک پہنچی ہے۔
حکام کے مطابق جاپان میں سال 2025 کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کم ہو کر 7 لاکھ 5 ہزار 809 رہ گئی، جو سال 1899 میں ریکارڈ کا آغاز ہونے کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ یہ تعداد، جس میں غیر ملکی شہریوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی شامل ہیں سنہ 2024 کے مقابلے میں 2.1 فیصد کم ہے۔
جاپانی میڈیا کی پیشگوئی ہے کہ صرف جاپانی شہریوں کے ہاں ملک کے اندر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد، جو جون میں جاری کی جائے گی، ممکنہ طور پر پہلی بار 6 لاکھ کی حد تک گر سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق شرحِ پیدائش میں یہ کمی ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی معمر آبادی اور مہنگائی کے باعث بڑھتی لاگتِ زندگی کے تناظر میں بچوں کی پرورش سے متعلق خدشات کے سبب سامنے آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 میں اموات کی تعداد 16 لاکھ 5 ہزار 654 ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح قدرتی آبادی میں کمی 8 لاکھ 99 ہزار 845 رہی جو ریکارڈ کے آغاز سے اب تک کی سب سے بڑی کمی ہے۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ نوجوان نسل کی آمدن میں اضافے اور بچوں والے خاندانوں کے لیے معاونت کو وسعت دینے سمیت مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اس رجحان پر قابو پایا جا سکے۔









