اسلام آباد(طارق محمود سمیر)وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے آپریشن “غضب للحق” سے متعلق تازہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مزید ہلاکتوں کا بھی امکان ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ مزید یہ کہ دشمن کے دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس کو بھی تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سیز) بھی ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام کا پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی
وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ مختلف شہریوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی کئی پوسٹیں تباہ کیں۔
شہریوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کا دفاع ہر قیمت پر کرنا جانتی ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیں۔
کچھ شہریوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر بیرونی ایما پر پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں، انہیں سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ماضی میں بھی دشمنوں کو عبرتناک شکست دی اور آئندہ بھی ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے پوری قوم متحد رہے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے: ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہے گی۔
آپریشن “غضب للحق” میں دشمن کو بھاری نقصان، 133 ہلاکتوں کی تصدیق: وفاقی وزیر اطلاعات








